غلطی کار والوں کی تھی کیوںکہ یھاں پولیس کو کچھ کھنا بھی غلط ہے

0
101

Real Story of Sahiwal Saniha

کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے شیر جوانوں نے ساہیوال کے قریب ایک مبینہ مقابلے میں 4 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا، جاں بحق ہونے والوں میں ایک عورت اور 13 سال کی معصوم چھوٹی بچی بھی ہے۔

ترجمان ھیڈ سی ٹی ڈی نے جاں بحق والوں کا تعلق کالعدم تنظیم ’داعش‘سے قرار دیتے ہوئے کہا کہ سی ٹی ڈی نے انتھائی حساس ادارے کی طرف سے ملنے والی موثر اطلاع پر انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کیا جس کے نتیجے میں کالعدم تنظیم داعش سے منسلک 4 دہشت گرد ہلاک ہوگئے ،ٹول پلازہ کے پاس سی ٹی ڈی ٹیم نے ایک کار اور موٹرسائیکل کو روکنے کی کوشش کی جس پر کار میں سوار افراد نے پولیس ٹیم پر فائرنگ شروع کردی،سی ٹی ڈی نے اپنی حفاظت کے

لیے جوابی فائرنگ کی، فائرنگ کا سلسلہ تھما تو دو عورتوں سمیت 4 دہشت گرد ہلاک ہوگئے جبکہ 3 دہشت گرد موقع پر ھی فرار ہوگئے۔

ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق دہشت گردوں سے ہتھیار پھینکنے کو کہا گیا تھا لیکن انہوں نے فائرنگ شروع کردی، جس کے بعد دہشت گرد شاہد جبار، عبدالرحمان اور اس کا ایک ساتھی تینوں موٹرسائیکل پر فرار ہوگئے جبکہ گاڑی میں سوار افراد مارے گئے تھے، سی ٹی ڈی ٹیم نے موقع سے خودکش جیکٹ، ہینڈ گرنیڈ اور رائفلز سمیت دیگر اسلحہ قبضے میں لے لیا تھا۔

یہ تو تھی سی ٹی ڈی جیسے ریاستی ’’دہشت گرد‘‘ ادارے کی روایتی داستان جو ہر جھوٹھے مقابلے کے بعد میڈیا کو بتائی جاتی ہے۔

ساہیوال سانحے نے پولیس اور سی ٹی ڈی کی ’’قلا بازیوں ‘‘ نے اس ادارے کا مکروہ چہرہ بے نقاب کر دیا ہے، پہلے پولیس کی جانب سے کہا گیا کہ ’’ساہیوال میں مارے جانے والے افراد اور خواتین ڈاکو تھے،وہ بچوں کو اغواء کرکے کھیں لے جارہے تھے، ہم نے بازیاب کروایا.

پولیس ترجمان کا کہنا تھا کہ دن 12 بجے کے قریب ٹول پلازہ کے پاس سی ٹی ڈی ٹیم نے ایک کار اور موٹرسائیکل کو روکنے کی کوشش کی، جس پر کار میں سوار افراد نے پولیس ٹیم پر فائرنگ بارش کردی، سی ٹی ڈی نے اپنے تحفظ کے لیے جواب میں فائرنگ کردی، جب فائرنگ کا سلسلہ رکا تو دو خواتین سمیت 4 دہشت گرد ہلاک ہوگئے گئے جبکہ 3 دہشت گرد موقع دیکھ کر پھلے ھی فرار ہوگئے تھے۔

پھر سی ٹی ڈی کی جانب سے بیان آیا کہ گاڑی میں سوار تمام افراد کا تعلق ’’ داعش‘‘ سے تھا اور گاڑی سے اسلحہ اور بارودی مواد بھی برآمد کیا گیا ہے۔ دوسری طرف عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ مرنے والوں کی گاڑی سے نہ کوئی اسلحہ برآمد ہوا اور نہ ہی ان کی طرف سے کوئی بھی فائرنگ کی گئی تھی جبکہ اس بد قسمت خاندان کے بچنے والے معصوم بچوں کا کہنا تھا کہ ہم ایک شادی میں جارہے تھے، پولیس نے ممی پاپا کو مار دیا۔

پاپا نے پولیس سے کہا کہ آپ تلاشی لے لیں ہمارے پاس کچھ نہیں ہے. کچھ اور عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ گاڑی میں اسلحہ نہیں بس صرف کپڑے تھے، پولیس نے پہلے بچے پٹرول پمپ پر چھوڑ دیئے اور موقع سے بھاگ نکلے تاہم کچھ دیر بعد دوبارہ آئے اور بچ جانے والے بچوں کو اپنے ساتھ لے گئے، کوئی بھی مزاحمت نہیں ہوئی۔

میڈیا رپورٹس مطابق اور گھر والوں کے مطابق مقتول فیملی لاہور سے ایک شادی پر بورے والا کے علاقے جا رہی تھے کہ سی ٹی ڈی کے ظلم و ستم کا شکار ہو گئے۔

مقتول خلیل کا لاہور کے علاقے چونگی امر سدھو میں پرچون کی ایک دوکان ہے اور اس کی فیملی اس علاقے میں گذشتہ 35 سال سے رہ رہی تھی ۔اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ سی ٹی ڈی کے ظلم کا شکار ہونے والی فیملی انتہائی شریف تھی، ان کا کسی بھی دہشت گرد تنظیم اور کسی بھی گروہ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

سی ٹی ڈی ادارے کے ہاتھوں مقتول شخص خلیل کی والدہ اپنے بیٹے، بہو اور پوتی کے قتل ہونے کی اندوہناک خبر کا غم برداشت نہیں کر سکی اور وہ بھی ان کے پیچھے ہی عمران خان کے ’’نئے پاکستان ‘‘سے منہ موڑتے ہوئے اس فانی دنیا سے کوچ کر گئیں۔

وزیر اعظم عمران خان صاحب اکثر کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ جس معاشرے میں انصاف نہ ہو وہ ملک قائم نہیں رہتے، معاشرے میں ہونے والی بے انصافیوں کی لاکھوں داستانیں جگہ جگہ پر بکھری پڑی ہیں، سوشل میڈیا پر ساہیوال میں قتل ہونے والے مقتول خلیل کے بچ جانے والےمعصوم بیٹے عمیر خلیل کی ویڈیو وائرل ہو چکی ہے ،اس کی آنکھوں کے سامنے اس کے بے گناہ باپ ،والدہ اور کمسن عمر بہن کو سرراہ قتل کر دیا گیا تھا۔

عمیر خلیل کی آنکھوں میں دیکھا جانے والا خوف مجھ سے تو نہیں دیکھا جا رہا۔ کم سن بچیوں کے چہرے دیکھنے کی بھی سکت نہیں رہی اور میں نے ویڈیو دیکھنی ہی بند کر دی۔

پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا پر ساہیوال دہشت گردی کا شور بپا ہے لیکن ایک دو روز میں یہ شور بھی تھم جائے گا اور ہم اس سانحے کو بھی بھولادینگے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار صاحب نے بھی واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے فوری ایکشن لیتے ہوئے واقعہ میں ملوث سی ٹی ڈی کے تمام اہلکاروں کو فوری گرفتار کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان آپ نے اس پاکستانی معصوم قوم کو انصاف پر مبنی معاشرے کے خواب دکھائے ہیں، سانحہ ساہیوال کے بعد مجھے امید ہے کہ ننھے عمیر اور اس کی بہنوں کو مکمل اور کامل انصاف ملنے تک وزیر اعظم عمران خان صاحب آپ کو نیند تک نہیں آئے گی اور اس ٹیسٹ کیس کو لیکر اب تک جتنے بھی افراد سی ٹی ڈی کے ظلم و ستم کا شکار ہوچکے ہیں آپ انہیں انصاف دلوانے کے لئے کمر بستہ ہو جائیں گے کیونکہ جس معاشرے میں انصاف نا پید ہو جائے وہ ملک قائم نہیں رہتے، اور یہ آپ ہی کھتے ہیں، پوری قوم آپ سے سراپا سوال اور انصاف کی دہائی کر رہی ہے اور ویسے بھی ساہیوال نیشنل ہائی وے پر ہونے والے اس عظیم ظلم و ستم پر اگر آج بھی ہم خاموش رہتے ہیں تو پھر اللہ کے عذاب کو ہم پر مسلط ہونے سے کوئی بھی نہیں روک سکتا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here