عدالت نے نقیب اللہ محسود کو بیگنا ہ قرار دیدیا، نقیب اللہ کیا بننا چا ہتے تھے ؟ جان کر ہر کسی کی آنکھوں میں آنسو آجائینگے

0
397

Naqeebullah Mehsood Case Letest Report

کراچی(نیوز ڈیسک) کراچی میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پچھلے سال پولیس مقابلے میں قتل ہونے والے مقتول نقیب اللہ محسود کے خلاف دائر دہشت گردی، ھتھیار و بارود رکھنے کے الزام میں دائر پانچوں مقدمات خارج کر دیے۔ عدالت نے بیگناہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ نقیب اللہ کے سوشل میڈیا پروفائل سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک لبرل، فن، اور ماڈلنگ فیشن سے محبت کرنے والا نوجوان تھا جو ماڈل یا اداکار بننے کا خواہشمند تھا۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ایس ایس پی انویسٹیگیشن عابد قائم خانی کی پانچوں رپورٹس کی روشنی یہ مقدمات خارج کرنے کا حکم جاری کردیا۔ نقیب اللہ کے خلاف دائر پانچوں مقدمات کی الگ الگ تحقیقات کی گئی تھی اور تمام الزامات کو گمراہ کن قرار دے دیا گیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ پولیس کی تحقیقاتی رپورٹ سے معلوم ہوا ہے کہ شاہ لطیف تھانے کے ایس ایچ او امان اللہ مروت کی سربراہی میں پولیس کو بکتر بند گاڑی میں گشت کے دوران خفیہ اداروں سے معلومات ملی کہ عثمان خاصخیلی گوٹھ میں داعش اور لشکر جھنگوی کے دہشت گرد ایک سیف ہاؤس میں موجود ہیں۔ایس ایچ او نے حکام بالا کو آگاہ رکھا اور مزید نفری طلب کی اور جس کے بعد کیے گئے مقابلے میں نقیب اللہ اپنے 2 اور ساتھیوں سمیت مارا گیا تھا۔

عدالت کے مکمل تحریری فیصلے میں بتایا گیا ہے کہ ایس ایس پی عابد قائم خانی کی رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ نقیب اللہ کو 4 جنوری 2018 کو دو افراد، محمد قاسم اور حضرت علی کے ہمراہ کراچی کے علاقے ابو الحسن اصفہانی روڈ پر موجود ایک ہوٹل سے اٹھایا لیا گیا لیکن بعد میں دونوں ساتھیوں کو چھوڑ دیا گیا جنہوں نے بطور چشم دید گواہ بیان بھی رکارڈ کرائے ہیں۔ عدالت کے حکم نامے کے مطابق مشتبہ مقابلے کی ایف آئی آر کے مطابق پولیس کے چند اہلکاروں کی وھاں پر موجودگی کی تصدیق ہوتی ہے جبکہ موبائل ٹیلیفون کے ریکارڈ کے تجزیے کے تحت ایس ایس پی راؤ انوار کی بھی موجودگی کا معلوم ہوتا ہے۔ راؤ انوار کے میڈیا میں دعوے اور کمیٹی کے روبرو بیان کے برعکس نصیب اللہ عرف نقیب اللہ کی کسی دہشت گردی کی سرگرمی میں ملوث ہونے کا کوئی ثبوت ہی نہیں ملا۔ جائے واردات سے ملنے والے شاہد اور فرانزک رپورٹ الزامات کو ثابت نہیں کرتے ہیں لہذا پانچوں مقدمات خارج کر لیئے جاتے ہیں۔ خیال رہے کہ گذشتہ سال جنوری میں سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے نقیب اللہ محسود کو تین ساتھیوں سمیت پولیس مقابلے میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا اور اس کا تعلق شدت پسند تنظیم داعش اور لشکر جھنگوی سے ظاہر کیا جا رھا تھا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here