پاکستان میں بے حیائی کا طوفان آگیا، ہر شخص حیران

0
149

آج کل کے دور میں پسند کی شادی کرنا ایک عام بات بن چکی ہے، لیکن پسند کی شادی تب ہی ابنے صحیح انجام کو پھنچ پاتی ہے جب لڑکا اور لڑکی دونوں ہی ایک دوسرے کیلئے پسندیدگی کا اظھار کریں۔

وگرنہ یک طرفہ پسندیدگی کئی مرتبہ جرائم کی ترغیب دلاتی ہے، جس سے ھنستے کھیلتے گھر اجھڑ کر راکھ ھوجاتے ہیں۔

ھمارے معاشرے میں کنوارے لڑکے اور لڑکیاں ہی نہیں بلکہ شادی شدہ مرد اور خواتین بھی اور بال بچے والے لوگ بھی موبائیل کی اس ٹائیم پاس والی فحاشی والی بیماری میں مبتلا ہو چکے ہیں۔

نا بالغ لڑکے اپنی ماوں کی ہمعمر خواتین سے موبائیل پر بات کرتے، اور شادی شدہ خواتین اپنے بچوں کی عمر کے لڑکوں سے موبائیل پر بات کرتی ہیں، اور وہ باتیں صرف باتیں نہیں ہوتی، ان میں عریانیت، فحاشیت اور غیر اخلاقی جملے موجود ہوتے ہیں۔ یہ انتہائی غلط بات ہے اور یہ اس معاشرے کو آھستہ آھستہ پجمردہ کر رہا ہے۔

کیوں کہ یہ واقعات اس معاشرے میں بڑھتے جا رہے ہیں، اور اس کا اصل بنیاد مغربی ممالک سے ھمیں تحفے میں ملا یہ سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا یے۔

آج کل ہر گھر میں انٹرنیٹ، موبائیل اور ٹیلیویزن موجود ہیں، جنھیں اگر صحیح استعمال کیا جائے تو ہمارے لئیے فائدیمند ہیں اگر غلط استعمال کیا جائے تو یہ وہ چیزیں ہیں جو ہمیں تباہ و برباد کر سکتی ہیں۔

جسکا رزلٹ موجودہ دور میں آپکے سامنے ہے۔

ایک واقعہ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں پیش آیاجہاں ایک 18 سالہ لڑکے نے شادی شدہ خاتون سے محبت کا اظھار کیا اور شادی کی پیشکش کر ڈالی۔

لڑکے نے شادی کی پیشکش کی لیکن خاتون نے انکار کردیا، لیکن جب خاتون نے انکار کیا تو لڑکے نے اپنی ہی محبوبہ کے 3 سالہ بچے کو کر لیا۔

رپورٹ کے مطابق لاہور کے علاقے جوہر ٹاون کی کچی آبادی بیڑھ میں 18 سالہ علی رضا کی 35 سالہ نوجوان شادی شدہ خانہ بدوش خاتون سے دوستی ہوگئی تھی، اور وہ روزانہ موبائیل پر ہر وقت اور روبرو بھی کبھی کبھی بات کیا کرتے تھے۔

لڑکا 18 سالہ علی رضا خاتون کو شادی کیلئے مجبور کرنے لگا لیکن 35 سالہ خاتون نے بار ہا انکار کردیا۔

جس پر علی رضا خاتون کے 3 سالہ بچے کو اٹھا کر بھاگ گیا۔

واردات کے بعد خاتون نے فوری طور پر 15 ون فائیو پر کال کی، جس پر لاہور ڈالفن پولیس اسکواڈ حرکت میں آگیا۔

ڈالفن پولیس اسکواڈ کی بروقت کاروائی کی وجہ سے ہی 35 سالہ عورت کی رھائشگاہ سے آگلی ہی گلی سے علی رضا کو گرفتار کیا گیا، اور 3 سالہ بچے کو بھی بازیاب کرواکے اسکی والدہ کے حوالے کرلیا گیا۔

ترجمان ڈالفن اسکواڈ کے مطابق ملزم نے ابتدائی تفتیش میں اعتراف کرلیا کہ شادی کے انکار پر خاتون کو ڈرانے کیلئے اسنے ایسا کیا۔

ڈالفن اسکواڈ پولیس نے گرفتار ملزم علی رضا کو مزید کاروائی کیلئے متعلقہ تھانے کے حوالے کردیا۔

جب 35 سالہ خاتون سے اس حوالے سے دریافت کیا گیا تو خاتون کا کہنا تھا کہ میں بھی ایک عورت ہوں اور میرا شوہر مجھے ٹائیم نہیں دیتا تھا، جس وجہ سے مجبورن میں اس 18 سالہ لڑکے کی باتوں میں آگئی اور بیحک گئی تھی۔

اگر مجھے معلوم ہوتا تو میں کبھی بھی ایسا نہیں کرتی اور اس سے بات نہ کرتی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here