یمن کی ملکہ اور حضرت سلیمانؑ کی بیوی صبا بلقیس کی کہانی

0
342

ملکہ صبا بلقیس کا باپ شراحیل بن مالک سرزمین یمن کا بادشاہ تھا۔ بلقیس کے والد کے نام میں اختلاف ہے۔ الرزکلی نے الہد ہاد بن شرجیل لکھا ہے۔

بلقیس نام آسمانی کتاب توریت سے دریافت کیا گیا یے، قرآن پاک میں اس کا تذکرہ بغیر نام کے ہے۔

وہ ٓحضرت سلیمانؑ کی ہم عصر تھی اور بعض مفسرین کا خیال ہے کہ بعد میں ان کے عقد نکاح میں آگئی تھی، اولَن وہ اور اس کی قوم سورج کی پرستش کرتی تھی لیکن حضرت سلیمانؑ نے اس کو ایک خط لکھ کر خدائے واحد کی عبادت کی طرف مدعو کیا، اسنے اپنے سرداروں سے اس بارے میں مشورہ کیا، بحث کے بعد یہ طے پایا کہ انکا امتحان لیا جائے اور اگر وہ سچے پیغمبر ثابت ہوں تو انکا مذہب اختیار کر لیا جائے۔

چنانچہ جب اس کو یقین ہوگیا کہ وہ حقیقت میں پیغمبر ہیں تو اس نے خود انکے پاس جاکر ایمان لانے کا فیصلا کیا۔ اس کے آنے سے پہلے حضرت سلیمانؑ نے روحانی طاقت سے اس کا تخت منگوالیا جس کو دیکھ کر اس کا اعتقاد اور بھی پختہ ہوگیا اور وہ اپنی قوم سمیت ایمان لے آئیں۔ یہ واقعہ تقریبن 950 قبل مسیح کا ہے۔

عہد قدیم میں ملکہ صبا بلقیس کا مختصر تذکرہ نام لئیے نغیر ملتا ہے۔ جب حضرت سلیمان کی نبوت اور دعوت حق کا ذکر سن کر اورتحفے لئے جلوس کی شکل میں روشلم میں داخل ہوئی اور ان سے سوالات کرتی ہیں اور وہ ہر سوال کا تسلی بخش جواب دیتے ہیں۔ ملکہ صبا حضرت سلیمانؑ کے خدام و مصاحبین اور جاہ و جلال سے متاثر ہوتی ہیں اور انکی حکمت اور انکے پروردگار کی عظمت کی قائل ہوجاتی ہیں اور پھر حضرت سلیمانؑ اسے تحفے دیتے ہیں اور وہ اپنے خدام کے ساتھ اپنے وطن واپس لوٹ جاتی ہیں۔

بعض روایات کے مطابق حضرت سلیمانؑ نے شہزادی بلقیس سے شادی کرلی اور اسے اپنے ملک یمن پر بطور حکمران برقرار رکھا۔ مذید معلومات کے لئیے نیچے ویڈیو کو دیکھیں شکریہ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here