مہوش حیات کا بالی ووڈ میں اداکاری کرنے سے صاف انکار

0
363

تمغہ امتیاز کا اعزاز حاصل کرنے والی نامور پاکستانی اداکارہ مہوش حیات نے بالی وڈ فلموں کی پیشکش مسترد کرنے کے حوالے سے کہا ہے کہ میری ضرورت پاکستانی فلم انڈسٹری کو ہے تو میں بالی وڈ کس وجہ سے جاؤں۔

حال ہی میں پاکستانی اداکارہ مہوش حیات نے بی بی سی ایشین کوانٹرویو دیا اور اس دوران انٹرویو میزبان نے بالی وڈ کی فلموں کی پیشکش قبول نہ کرنے کے حوالے سے مہوش حیات سے سوال کیا۔

اس پر خوبرو اداکارہ کا کہنا تھا کہ ہمارے کئی فنکاروں نے بالی وڈ انڈسٹری میں کام کیا ہے تاہم انہیں وہ عزت و احترام وہاں نہیں ملا جس کے وہ حقدار تھے کیونکہ یہ جائز نہیں کہ آپ کسی بھی فنکار کو اس کی فلم کی تشہیر کرنے سے یا پریمیئر میں شرکت کرنے پر پابندی عائد کردیں۔

اداکارہ مہوش حیات نے کہا کہ انڈین فلموں میں کام نہ کرنا ایک باشعور فیصلہ تھا کیونکہ انہیں اپنی انڈسٹری (بالی وڈ) کے لیے خود کے فنکار ہی کافی ہیں، انہیں ہمارے فنکاروں کی کوئی ضرورت نہیں البتہ ہمیں اپنی فلم انڈسٹری کو بہتر بنانے کی بہت ضرورت ہے۔

خوبرو اداکارہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ مجھے لگتا ہے کہ میری ضرورت پاکستانی فلم انڈسٹری کو بہت ہے تو پھر میں کسی اور ملک کام کرنے کیوں جاؤں جب کہ ان کی انڈسٹری پہلے سے ہی مضبوط ہے۔

اداکارہ مہوش حیات نے بتایا کہ مجھے فلم ”فنے خان” اور ”دیدھ عشقیہ” کی پیشکش کی گئی تھی جس کو قبول نہیں کیا کیونکہ صرف پاکستان میں ہی کام کرنے کا سوچا ہے تاکہ پاکستانی فلم انڈسٹری ترقی حاصل کر سکے۔

مہوش حیات کا انٹرویو کے دوران امیتابھ بچن کے حوالے سے کہنا تھا کہ میں نے ان پر تنقید کی کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ فلمیں سوچ بدلنے کا کام کرتی ہیں، اس میں ایک پیغام ہوتا ہے اور اداکاروں سے فلم بین متاثر ہوتے ہیں تو کسی بھی اداکار کو اچھا، پرامن اور دوستانہ کام کرنے سے انکار نہیں کرنا چاہیے۔

تاہم دوسری جانب مہوش حیات نے فلموں میں اپنے کرداروں کا انتخاب کرنے کے حوالے سے کہا کہ وہ ہمیشہ ایسے کردار اور رول کا انتخاب کرتی ہیں جس میں خواتین کو مضبوط دکھایا جائے۔

اداکارہ نے مذید کہا کہ ہمارے ٹی وی ڈراموں میں اب بھی خواتین کو کمزور اور روایتی کردار میں دکھایا جاتا رہا ہے جب کہ پاکستانی فلموں میں ایسا نہیں ہے جس کی ایک مثال فلم ‘لوڈ ویڈنگ’ ہے اس میں سماجی مسائل، جہیز اور ایک بیوہ لڑکی کا مقام دکھایا گیا ہے تاکہ معاشرے میں شعوراور سوچ پیدا ہوسکے۔            

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here