لاہور میں یہ (شیطانی مجسمہ) کیا کر رہا ہے؟

0
140

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور میں حال ہی میں ایک منفرد، ماھرانہ اور کسی حد تک ڈراؤنا مجسمہ شہریوں کی توجہ کا مرکز بنا اور یہ معاملہ ایک معمے کے طور پر سوشل میڈیا پر بھی زیر بحث ہے۔

سرمئی رنگ کا 16 کا فٹ طویل مجسمہ لاہور کے عجائب گھر کے داخلی راستے پر تعینات کیا گیا تو یہ ایک معمہ بن گیا کہ آخر یہ کس کا مجسمہ ہے اور یہاں کیا کر رہا ہے؟ تاہم اس کی تنصیب کے چند روز کے بعد ہی اسے یہاں سے ہٹا دیا گیا ہے۔

درحقیقت یہ مجسمہ لاہورشہر میں فنون لطیفہ کے ایک طالب علم ارتباط الحسن چیمہ کا بنایا ہوا ہے۔ارتباط الحسن چیمہ نے حال ہی میں پنجاب یونیورسٹی کے کالج آف آرٹس اینڈ ڈیزائن سے گریجویئشن مکمل کیا ہے اور یہ مجسمہ ان کی گریجویئشن کا فائنل تھیسز ورک تھا۔

ارتباط الحسن چیمہ نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے اس بارے میں کہا کہ ’اس کردار کو تخلیق کرتے ہوئے میرے ذہن میں شیطانیت کا کوئی تصور بھی نہ تھا۔ دوسری بات یہ کہ اگر اسے شیطان بولا جا رہا ہے تو شیطان تو کسی نے بھی نہیں دیکھا، تو پھر اسے کیوں شیطان کا نام دیا جا تا رہا ہے؟‘

انہوں نے کہا کہ ’یہ ایک تصوراتی کردار ہے اور اس کو ایک کردار ہی رہنا چاہیے جیسے کارٹون کردار ہوتے ہیں اسی طرح یہ بھی ایک کردار ہی ہے۔

ارتباط الحسن چیمہ نے کہا کہ ان کے تھیسز کا عنوان ’فیروسٹی‘ یعنی درندگی یا وحشی پن تھا۔

انہوں نے بتایا کہ میرے تھیسز ورک کی آرٹ سٹیٹمنٹ یہ تھی کہ جب ایک انسان اپنی اصلاح کرنا چھوڑ دیتا ہے تو وہ اتنا وحشی ہو نے لگتا ہے۔ ‘

’جو انسان اپنی جسمانی اور ذہنی باطن کا مشاہدہ یا مشاہدہِ نفس نہیں کرسکتا وہ ایسا وحشی بن کر رہ جاتا ہے اور یہی میں نے اپنے فن میں ظاہر کرنے کی کوشش کی۔ یعنی جو شخص اپنی اصلاح کے لیے اپنا مشاہدہ نہیں کرتا وہ بہت درندہ اور خوفناک ہو جاتا ہے۔‘

اس کردار کی تخلیق کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہ اس سے پہلے بھی انسان اور جانور کے ملاپ یا مخلوط النسل صورتوں کو فن پاروں کی شکل میں پیش کرتا رہا ھے۔

انھوں نے بتایا کہ اس کی قدامت 16 فٹ ہے اور فائبرگلاس سےاسکی تیاری میں اس پر پانچ ماہ وقف ہوئے۔

ارتباط الحسن چیمہ کا کہنا تھا کہ لاہور کے عجائب گھر میں مجسموں کی ایک نمائش منعقد ہونی تھی اور اسی سلسلے میں مختلف طالب علموں کے بنائے ہوئے مجمسے وہاں پر رکھے گئے تھے۔

سوشل میڈیا پر تمام احباب نے اسے فن کا نمونہ قرار دیا اور کچھ نے یہ جاننا چاہا ہے کہ یہ ’شیطانی مجسمہ‘ یہاں کیوں نصب کیا ہے؟

کچھ صارفین نے اس مجسمے کو کارٹونی کردار ’ڈرٹو‘ کا نام دینا شروع کر دیا تو کچھ نے اسے کوئی شیطان یا ڈیول کا نام دیتے ہوئے ‘لاہور میں لوسیفر’ کا ہیش ٹیگ استعمال بھی کیا۔

تاہم اس دوران بیرسٹر عبرین قریشی نے لاہور کے ہائی کورٹ میں یہ رٹ دائر کی کہ اس مجسمہ کی کوئی تاریخی، سائنسی، فنی، ثقافتی یا تعلیمی اہمیت نہیں ہے اور عجائب گھر کے داخل والے راستے پر اس ’شیطانی مجسمے‘ سے منفی تاثر جاتا ہے۔

ان کے مطابق وہ فن کے اور ہنر خلاف نہیں ہیں لیکن یہ اس کی صحیح جگہ نہیں ہے۔


سوشل میڈیا پر کئی احباب نے اس مجسمے کو ’الومیناٹی‘ ، ’ڈرٹو‘ یا ’شیطانیت‘ کے ساتھ تشبیہ دی ہے، اس کے ردعمل میں ارتباط الحسن چیمہ کا کہنا تھا کہ جو لوگ اس قسم کی باتیں کرتے ہیں وہ اس فن کے مرکزی خیال سے ناواقف ہیں اور اس کی تخلیق کے حوالے سے میرے ذہن میں ایسا کوئی خیال نہیں تھا۔

معروف صحافی احمد وحید نے اس مجسمے کا موازنہ حال ہی میں سپین کے شہر سگوویا میں مسکرا کر سیلفی لیتے ایک شیطانی مجسمے سے کیا جس پر وہاں پر بھی بہت سے احباب نے ناراضی کا اظہار کیا تھا۔

ہادیہ ملک نے لکھا کہ واضح طور پر یہ ایک شاندار اور زبردست کام ہے اور یہ جاننا انتہائی متاثر کن ہے کہ یہ مجسمہ ایک طالب علم نے ہی بنایا ہے۔ بہت سے لوگ اس مجسمے کے بارے میں کچھ ایسی ہی رائے رکھتے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here